Barma Voice

آواز آرہی ہے برما کی سرزمیں سے

آیا نہیں مدد کو اک شخص بھی کہیں سے
کردار میں ہمارے ، دھرنے جلوس و نعرے

مظلومِ دربدر کا شکوہ ہے اہلِ دیں سے
بدھ مت کھڑے ہوئے ہیں لیکن مرا مسلماں

جنت کو دیکھتا ہے دنیا کی دُوربیں سے
دنیا کہ آخرت ہے دل میں خطیب تیرے

اِک روز کرکے دیکھو خطبہ دلِ حزیں سے
ارکاؔن کا فسانہ حاکم کو مت سنانا

حاکم کو ہے محبت مغرب سے اہلِ چیں سے
اُمت نے قومیت کے بُت کو گلے لگایا

ہر آدمی پریشاں اپنوں کی نکتہ چیں سے
اس عارضی جہاں کی قسمت فنائیت ہے

حرص و ہوس کو چھوڑو لڑنے چلو لعیں سے
جلتی ہے میری مسجد ، کہتے ہیں جلتے منبر

حالات سب سنانا جاکر مجاہدیں سے
فتنوں بھرے جہاں میں اپنے فضل سے مولیٰ

امت کو تو بچانا ہر مارِ آستیں سے
امت کو جسد ِواحد فرما دیا نبی نے

لینا ضرور بدلہ برما کے مشرکیں سے! 
توحید کا ترانہ میدان میں سنانا

ہدہد کی یہ گزارش ہر صاحب ِ یقیں سے

Leave a Comment